آب کشی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - آب کش کا اسم کیفیت۔ "جملہ عزت و منفعت کے عہدے ان کو اور ان کی اولادوں کو ملیں، باقی مخلوق آب کشی اور ہیزم فروشی کیا کرے۔" ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٣٢٧:٢ )
اشتقاق
فارسی مرکب 'آب کش' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے بنا۔ اردو میں فارسی اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٣٧ء کو "ستۂ شمسیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - آب کش کا اسم کیفیت۔ "جملہ عزت و منفعت کے عہدے ان کو اور ان کی اولادوں کو ملیں، باقی مخلوق آب کشی اور ہیزم فروشی کیا کرے۔" ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٣٢٧:٢ )